بنگلورو،5؍دسمبر(ایس او نیوز)کوروناوائرس کی روک تھام کے مقصدسے ریاست میں رات(نائٹ) کرفیو جاری کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں جارہی ہے،تاہم سخت احتیاطی وحفاظتی اقدامات ضروراٹھائے جائیں گے۔ یہ باتیں ریاستی وزیربرائے طبی تعلیم وصحت ڈاکٹرکے سدھاکرنے کہیں۔بروزجمعہ ودھان سودھامیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست بھرمیں نائٹ کرفیوجاری کرنے کے معاملہ میں سرکاری سطح پرکوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔ٹیکنیکی کمیٹی کی جانب سے بھی اس معاملہ میں کوئی تجویزیامشورہ حکومت کے سامنے پیش نہیں کیاگیا۔اس لئے ریاست میں نائٹ کرفیوکے نفاذکاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔
ڈاکٹر سدھاکر نے کہاکہ جنوری فروری میں ریاست کرناٹک میں کوروناکی دوسری لہرکے آنے کاامکان ہے۔اس بارے میں ماہرین مشتمل کمیٹی نے حکومت کودرکارجانکاری فراہم کی ہے۔ ریاست میں آئندہ آنے والے 45دن نہایت اہمیت کے حامل ہیں،ملک کی دیگریاستوں کے حالات پرغورکرنے سے پتہ چلاکہ 45سے 90دنوں میں دوسری لہرآئی ہے ۔ ملک بھرمیں لاک ڈاؤن کے دوران سرکاری سطح پر جس قسم کے سخت اقدامات اٹھائے گئے تھے ان کے دوبارہ نفاذکی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔عوام کے جمگھٹہ اورٹولیوں کی شکل میں کھڑے ہونے کوروکناہوگا۔مذہبی تہوار،شادی بیاہ کی تقریبات میں 100سے زائدافرادکی شرکت پر پابندی عائد کئے جانے کی ضرورت ہے۔سیاسی پروگرموں میں 200سے زائد افرادکی شرکت پرقدغن لگانے کی ضرورت ہے۔جنازو ں میں بھی 50سے زائد افرادشریک نہ ہوں۔کمیٹی کی جانب سے اس قسم کے مشورے دئے گئے ہیں۔انہوں نے پھرایک مرتبہ اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں نائٹ کرفیو جاری کرنے کاسوال پید انہیں ہوتا۔ لیکن سماجی فاصلہ یقینی بناناہوگا۔کمیٹی نے 20دسمبرسے 2جنوری تک سخت اقدامات کئے جانے کامشورہ حکومت کودیاہے۔تکنیکی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ پیش کئے جانے کے بعدحکومت کی جانب سے اس پرسنجیدگی سے غورکیاجائے گا۔
وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپاکے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد اس بارے میں حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔ سدھاکرنے کہاکہ ریاست میں کوروناٹیسٹ میں کمی نہیں لائی جائے گی۔ہردن 1.25لاکھ ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔ فروری کے آخرتک یہ ٹسٹ مسلسل جاری رہیں گے۔ سدھاکرنے مزیدکہا کہ کووڈکیرسنٹرکھولنے کے لئے پرائیویٹ ادارے والے سرکاری اشتراک سے کھولناچاہئیں توہماری طرف سے اجازت فراہم کرنے کی بھرپورکوشش کی جائے گی۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ کووڈابھی تھما نہیں ہے۔ویکسین آنے تک کووڈضوابط پرعمل آوری ضروری ولازمی ہے۔ہمارے ملک میں کووڈویکسین تیسرے مرحلہ کے کلینیکل ٹرائل سے گزررہی ہے۔ انہوں نے قوی امیدظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کووڈویکسین بہت جلدملک میں آنے کا یقین ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ اسکول اورکالجوں کوشروع کرنے کے معاملہ میں دسمبرکے تیسرے ہفتہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ گرام پنچایت انتخابات کومارچ تک ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کومکتوب لکھاتھا،کیونکہ ماہرین نے کہاکہ تھاکہ پنچایت انتخابات چلانے سے گھرگھرکووڈپھیل سکتاہے۔لیکن الیکشن کمیشن اورہائی کورٹ اس جانب کوئی توجہ نہ دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایاہے۔